بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ غاصب صہیونی ریاست مسلمانوں کے ساتھ دشمنی کو اپنا دینی اور سیاسی فریضہ سمجھتی ہے لیکن عیسائی دنیا کے ساتھ بھی اس کا برتاؤ انتہائی بھیانک ہے۔ حال ہی میں جنوبی لبنان میں غاصب و جارح صہیونی فوجیوں کے ہاتھوں حضرت عیسیٰ اور حضرت مریم(ع) کے مجسموں کی بے حرمتی سے اعتقادی لحاظ سے بھی نیتن یاہو گینگ کی عیسائیت دشمنی کا اظہار ہؤا ہے، اور یہ تصور بھی اب سامنے آیا ہے کہ یہودی ریاست مغربی دنیا اور عیسائی اکثریتی ممالک کے ساتھ تعلق صرف اپنے مفادات کے لئے برقرار رکھتی ہے اور اگر انہیں اسرائیل کی حمایت میں کوئی نقصان پہنچے، یا ان کے فوجی ہلاک ہوجائیں یا ایران پر جارحیت کے دوران امریکی ہلاک ہوجائیں یا ان کو ٹریلنٹز ڈالر کا نقصان پہنچے تو نیتن یاہو اور اس کے ہم پیالہ صہیونیوں کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی؛ اس کا ثبوت یہ ہے کہ بنیامن نیتن یاہو، اسرائیل کے وزیراعظم نے امریکی خبر رساں نیٹ ورک سی بی ایس کے پروگرام "60 منٹ" کے ساتھ ٹیلی ویژن انٹرویو میں بالواسطہ طور پر وضاحت کی کہ اسرائیل نے جنگ کے میدان میں کس طرح امریکی سپاہیوں کی جانیں قربان کرنے اور امریکیوں کی جیب خالی کرنے کا منصوبہ بنایا ہے!
نیتن یاہو نے اس ٹیلی ویژن انٹرویو میں ایک صحافی نے پوچھا کہ "کیا ایران کی جنگ ختم ہو گئی ہے یا نہیں، اور اگر نہیں تو کون فیصلہ کرتا ہے کہ اس کا خاتمہ کب ہوگا؟" نیتن یاہو نے دھڑلے سے کہا: "نہیں! ختم نہیں ہوئی کیونکہ ابھی بھی اس ملک میں جوہری ذخائر موجود ہیں جنہیں باہر نکالنا ہے، ابھی بھی اس میں جوہری سائٹیں موجود ہیں جنہیں صاف کرنا ہے... ابھی بھی بیلسٹک میزائل موجود ہیں جو تیار کئے جا رہے ہیں..."
واضح رہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے نیتن یاہو کے اس موقف کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر کہا: "صہیونی ریاست کے ساتھ حساب بے باق کرنا ابھی باقی ہے"۔
بہرحال مذکورہ امریکی صحافی کے سوال نے پوچھا کہ "افزودہ یورینیم کو ایران سے باہر کیسے نکالا جائے گا"، تو پٹے ہوئے کینسر زدہ سرطانی پھوڑے نے مسکراتے ہوئے کہا: "آپ اندر داخل ہوں اور اسے باہر نکالیں!"
صحافی نے پوچھا: کس کے ساتھ مل کر اندر داخل ہوگے؟ اسرائیلی اسپیشل فورسز کے ساتھ؟ یا نہیں بلکہ ریاستہائے متحدہ سے؟
نیتن یاہو کہتا ہے: "میں فوجی وسائل کے بارے میں بات نہیں کرتا، بلکہ اس چیز کے بارے میں بات کروں گا جو صدر ٹرمپ نے کہی ہے "یعنی میں وہاں جانا چاہتا ہوں"۔ میرے خیال میں یہ کام (یعنی امریکی فوج کوایران کے اندر لے جانا) عملی اور جسمانی طور پر ممکن ہے۔"
یہ باتیں سائبر صفحات پر بڑے پیمانے پر منعکس ہوئی ہیں اور بہت سے صارفین نے اسے نیتن یاہو کی بےحیائی اور گستاخی کی علامت قرار دیا ہے۔
صرف ایکس پر موجود ایک پوسٹ میں ـ جسے 58 ہزار سے زیادہ بار دیکھا گیا اور 2 ہزار سے زیادہ تبصرے ملے، ـ امریکیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا گیا ہے:
- ایک غیر ملکی وزیر اعظم نے حال ہی میں ایک امریکی میڈیا سے کہا ہے کہ تمہاری جنگ ختم نہیں ہوئی، بلکہ
- اتفاق سے نیتن یاہو نے تمہارے بیٹوں کو ایرانی یورینیم لینے کے لئے بھیجنے کی بات کی ہے۔
- اس طرح ایک غیر ملکی رہنما امریکی صدر، حکومت اور افواج کے لئے مشن متعین کرتا ہے۔
- ایسا بیرونی شخص جو ہتھیاروں اور اوزاروں ـ اور فوجیوں کے بارے ميں پوچھے گئے سوال کا جواب دینے سے گریز کرتا ہے،
- وقت کی حد بندی سے انکار کرتا ہے
- لیکن لیکن تمہارے (یعنی امریکیوں کے) بیٹوں کو اس کے لئے لڑنا پڑتا ہے۔
- اے امریکیو! تمہارے ٹیکسو سے اس جنگ کو مالی اعانت فراہم کی جاتی ہے۔
- تمہارا ڈالر اس کی خاطر افراطِ زر سے دوچار ہوتا ہے۔
- اے امریکیو! یہ اسرائیل ہے یہ جنگیں اسرائیل کی جنگیں ہیں، جو تمہاری خارجہ پالیسی کو ڈکٹیٹ کر رہا ہے۔ اسے مسترد کرو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110

آپ کا تبصرہ